ہاٹ سیکس سٹوریز بس میں سیکس

(hot sex stories bus mae sex)

کامران شاہ 2017-02-27  Comments
Hot Sex Stories bus mae nai larki pata k chodi
میں چوت کا پرستار نوجوان لڑکا ہوں میری ابھی تک شادی نہیں ہوئی اور میں اس لیئے شادی نہیں کرنا چاہتا کہ ابھی مجھے رنگ برنگی چوت پھدی اور گانڈ چودنا ہے کیونکہ ان کے بنا مجھے چین نہیں ملتا اور جب تک میں  دوسرے تیسرے دن چوت نا لے لوں مجھے سکون نہٰں ملتا  سیکس ہی زندگی کا حسن ہے دوستوں اس لیئے میں  تو سیکس کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا زیادہ سے زیادہ انجوائے کرنا اپنا حق سمجھتا ہوں
میں  گھر سے دور جاب کرتا ہوں اس کا مجھے ایک بڑا فائدہ بھی ہے میرے رشتہ داروں دوستوں اور جاننے والوں کو میری ان حرکتوں کا بالکل بھی علم نہیں ہوتا اور میں سکون کے ساتھ  چدائی پروگرام جاری رکھے ہوئے ہوں یہاں تک کہ میں  بس میں  سیٹ لیتے وقت بھی اس بات کا خیال رکھتا ہوں کہ  میرے ساتھ والی سیٹ پہ کون کس ٹائپ کا مسافر ہے اس کا بھی بڑا فائدہ ہوتا ہے
میں  بہت بڑا پلان بنا کے سفر کرتا ہوں کیونکہ میں نے ہر ماہ سفر کرنا ہوتا ہے اور ہر ماہ دوران سفر نئی لڑکی کی پھدی مجھے کسی نا کسی طرح مل جاتی ہے آپ سن کے پڑھ کے حیران ہونگے لیکن یہ حقیقت ہے کہ مجھے سیکس کرنے کا اچھا موقع مل ہی جاتا ہے
میرا نام اقبال ہے میں ایک دن اپنے گھر والوں سے ملنے کے لیئے چھٹیوں پر حیدرآباد جا رہا تھا۔ رات کے آٹھ  بج رہے تھے  اور مجھے دیکھتے ہی  میرا دوست مسکرا دیا کیونکہ وہ کوئی اور نہیں میرا ہم راز  اور نیا نیا دوست بنا ہوا تھا میں نے اس کو ایک ٹکٹ کے پیسوں کے بدلے میں ڈیڑھ ٹکٹ کے پیسے دینا ہوتے تھے
وہ اس لیئے کہ وہ پلان ترتیب دیتا تھااور مجھے بس میں  سیٹ  کا وہ نمبر الاٹ کرتا تھا جس میں کوئی نوجوان تنہا لڑکی بیٹھی ہو اس نے سارا ریکارڈ ذہن میں  رکھا ہوتا تھا اور مجبوری بنا دیتا تھا کہ میں اس لڑکی کی ساتھ والی سیٹ پہ بیٹھوں  اس لیئے میں  اس کو دیکھ کے وہ مجھے دیکھ کے مسکرایا اور بولا ڈیئر ابھی تک تیرے مطلب کی مسافر نہیں آئی انتظار کروں
ابھی آدھی ٹکٹ باقی ہیں اور پھر بس فل ہونے والی ہی تھی ک ایک نوجوان لڑکی آئی اور بنا پوچھے ہی ٹکٹ مانگا تو دوست نے بتایا کہ مرد کے ساتھ بیٹھنے  والی ایک سیٹ باقی ہے اگر منظور نہیں ہے تو پچھلی پہ انتظار کر لوں وہ بولی نہٰں ایک گھنٹہ مزید رکنا پڑے گا کوئی بات نہٰں میں ورنکنگ وومن ہوں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے
اور اب ہم دونوں ایک ہی بس میں  ساتھ ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور بس میں سب سو رہے تھے۔ برابر والی سیٹ پر ایک پاکستانی لڑکی بیٹھی تھی اور اپنا میک اپ کر رہی تھی۔ بس میں رش بہت تھا  ساری سیٹیں فل تھیں چارپانچ گھنٹے کا سفر تھا لیکن دو  گھنٹے کے بعد عام طور پہ  پانچ ساتھ ہی مسافر رہ جاتے تھے اور میں اسکو دیکھ رہا تھا پھر میں نے اس سے پانی مانگا اور پھر اسیطرح اسکے ساتھ باتیں کرنے لگا۔ وہ ایک چوبیس سال کی جوان پرکشش لڑکی تھی اور بھرا ہوا بدن
میں نے اپنا تعارف کرایا پہلے اس نے عجیب سمجھا پھر اپنا بھی کرایا وہ سکولہ ٹیچر تھی  اور نقاب اتار چکی تھی کیا شاندار پرسنلٹی تھی  دوسرے لوگوں نے ایک بار دیکھا تو عجیب سمجھا مگر میں نے اور اس لرکی نے یوں تاثر دیا کہ ہم جیسے میاں بیوی ہوں ہم ایک ہی وقت میں تو سیٹوں پہ بیٹھے تھے جیسے کپل ہوں
پھر وہ میرے ساتھ آکر بیٹھ کر باتیں کرنے لگی۔ میں نے اسکے ساتھ سکس کرنے کا سوچا اور پھر آہستہ سے اسکے مموں کو دبا دیا۔ اسنے برا نہ مانا اور ڈوپٹہ سیٹ کر کے پھر باتیں کرنے لگی۔ میں نے پھر اسکے مموں کو پکڑ کر دبانا شروع کردیا اسکو بھی مزہ آرہا تھا اور وہ میرے سے چپک کر بیٹھ کر باتیں کرنے لگی۔
میرا لنڈ‌کھڑا ہو گیا تھا اور پھر میں نے دیکھا کہ سب سو رہے ہیں اور اسکو اپنی بانہوں میں لپٹا کر اسکے ہونٹوں کو چوسنے لگا۔ اسنے تھوڑا ڈر کر منہ کیا مگر میں نہ رکا اور اسکو سہلاتا دباتا اور کسنگ کرتا رہا۔ اتنے میں اسکی قمیض  کو اوپر کرکے اسکی برا ہٹا کر اسکے مموں کو دیکھا اف فل  چکنے جوان گلابی نوکیلی نپلز والے ممے تھے
میں نے اسکو ہاتھوں میں دبایا تو اسکی سسکیاں نکلنے لگی اور وہ مست ہونے لگی میں نے زور زور سے اسکو چوسنا اور دبانا شروع کردیا۔ اسکو مزہ آرہا تھا اور وہ میرے بالوں کو سہلارہی تھی۔ پھر میں نے اپنا لنڈ نکال کر اسکے ہاتھوں سے رگڑنا شروع کردیا۔ اسکو مستی چڑھ چکی تھی اور پھر اسنے میرے لنڈ کو چوپا لگانا شروع کردیا۔ میں اسکے شر کو پکڑ کر اسکے منہ کو چود رہا تھا۔
تھوڑی دیر بعد میں نے اسکو کہا کہ پیچھے چلتے ہیں آرام سے کریں گے۔ پیچھے والی سیٹ پر بیٹھ کر اسکو لٹایا  وہ اب پچھلی سیٹ پہ نیم دراز تھی اگر کوئی دیکھے تو سمجھے اس کی طبیعت خراب ہے اور اس نے چوت والا ھصہ پیچھے میری جانب کیا ہوا تھا اور اس طرح لن ڈالنے کا چانس بن چکا تھا
اور اسکے  پیچھے لیٹ کر اسکی شلوار اتار کر اسکی پھدی کو اپنے لنڈ سے رگڑنے لگا۔ اور ٹیڑھا ہو کے پوز سیٹ کیا اسکو مزہ آرہا تھا اور اسکی پھدی گھیلی ہو رہی تھی۔ میں نے اسکو اپنی بانہوں میں دبا کر ایک زور سے جھٹکا مارا اور اسکے ہونٹوں کو اپنے ہونٹ سے دبا لیا۔
اسکی سانس لمبی ہوئی اور پھر میں نان سٹاپ اسکی چدائی لگانے لگا۔ وہ بھی میرے لنڈ کا رگڑا لے کر فل مست سکس کا مزہ لے رہی تھی بس ہلتی تو خود بخود ہم بھی ہلتے تھے میں اسکی جوانی کو چوس چاٹ اور چود کر اپنی ٹھرک مٹا رہا تھا۔ اتنے میں وہ  فارغ ہونے لگی اور میں اسکو تیز تیز چودنے لگا۔
اسکی ٹائٹ گرم پھدی کا فل مزہ لیتا ہوا کوئی بیس  منٹ کی زردست چدائی کے بعد میں نے لنڈ باہرنکالا اور اسکی پھدی کے اوپر پچھلی جانب پہ  پر اپنی مٹھ گرا دی۔ اسکے بعد ایک دوسرے کو اپنا نمبر دیا اور اگلے ہفتے ہم ایک گیسٹ ہاوس میں ملے اور وہاں بھی اس پاکستانی لڑکی کی چدائی ماری۔
Hot Sex Stories ajnabi larki bus mae chodi
 Call me on this number
03076159044

What did you think of this story??

Comments